طالبان کے حملوں کی صلاحیت ختم کر دی ہے: آئی ایس پی آر
https://newschennal.blogspot.com/2014/09/blog-post_84.html
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کی پاکستان میں منظم حملے کرنے کی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے اور بکھرنے کے بعد اب وہ اکا دکا حملے کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ خصوص انٹرویو میں فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ شدت پسند دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔انھوں نے طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ دوبارہ سر نہیں اٹھا رہے بلکہ وہ بکھر جانے کے بعد ادھر ادھر حملے کر رہے ہیں۔ کبھی کوئٹہ میں حملہ کر دیا، کبھی کراچی میں، لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ پہلے جیسا کہ ان کا ایک ٹھکانہ تھا جہاں سے وہ منصوبہ بنا کر، بم لے کر، بارود سے بھری گاڑی تیار کر کے ملک کے مختلف حصوں میں حملے کر رہے تھے تو ان کی وہ صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔‘
فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن سے ان شدت پسندوں کو بہت بڑا دھچکہ پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کا آپریشن اپنے اہداف حاصل کرتا ہوا کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے لیکن اس کے مکمل ہونے کے بارے میں ڈیڈ لائن نہیں دی جا سکتی۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان کی دوسرے درجے کی قیادت اس آپریشن کے دوران ماری جا چکی ہے یا گرفتار ہو چکی ہے۔
’لیکن ملا فضل اللہ اور اس کی کابینہ کے دیگر ارکان افغانستان کے علاقے کنڑ میں بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے سے پہلے ہی فرار ہو گئے تھے۔ ہم نے افغان حکومت سے ان کی حوالگی کی بارہا درخواست کی ہے۔‘
پاکستانی فوج کے سیاسی معاملات میں مبینہ مداخلت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر میجر جنرل باجوہ نے کہا کہ فوج سیاست میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی ملک میں جاری سیاسی بحران میں کسی ایک فریق کی حمایت کر رہی ہے:
’فوج کا شروع سے ایک ہی موقف رہا ہے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طریقے ہی سے حل کیا جانا چاہیے۔ فوج کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ پوری قوم کی فوج ہے۔ ہم نے نہ پہلے کسی ایک فریق کی حمایت کی ہے نہ آئندہ کریں گے۔‘
