دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد اندازے سے تین گنا زیادہ

امریکہ کے خفیہ ادارے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم سنّی شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد ماضی کے اندازوں سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
خفیہ ادارے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مئی سے اگست کے دوران خفیہ اطلاعات کے تجزیوں کے بعد یہ تعداد 31 ہزار تک ہو سکتی ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے عراق میں وسیع علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس نے دو امریکی صحافیوں سمیت متعدد افراد کے سر قلم بھی کیے ہیں جن کے بعد امریکہ کی جانب سے اسے فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔
امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری آج کل دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مشرقِ وسطی اور عرب ممالک کے دورے پر ہیں۔
ان کے اس دورے کے دوران جمعرات کو ہی سعودی عرب سمیت دس ممالک نے دولت اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عراق اور شام میں فوجی کارروائیاں کرنے کے لیے
کلِکامریکہ کے ساتھ تعاون پر اتفاقکیا ہے۔
کیری جمعے کو ترکی جا رہے ہیں جس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کے اعلان پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ مبصرین اس فیصلے کی وجہ شدت پسند گروپ کی جانب سے سفارتکاروں سمیت 49 ترک باشندوں کو یرغمال بنانا قرار دے رہے ہیں۔
سی آئی اے کے ترجمان رائن تراپانی کا کہنا ہے کہ ادارے کے سابقہ اندازوں کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے ارکان کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ نئی تعداد جون کے بعد دولتِ اسلامیہ میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا نتیجہ ہے اور اس کی وجہ خلافت کا اعلان اور حکومتی افواج کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابی ہو سکتی ہے۔‘
امریکی خفیہ ادارے کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافے کا اندازہ صدر براک 
کلِک
اوباما کی جانب سے اس گروہ کے خلاف کارروائی کی حکمتِ عملی کے اعلانکے ایک دن بعد ہی سامنے آیا ہے۔اس پالیسی کے تحت امریکی صدر نے عراق کی طرح پہلی مرتبہ شام میں بھی شدت پسند گروہ کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔روس کی جانب سے امریکہ کے شام میں کارروائی کرنے کے اعلان کی مذمت کی گئی ہے اور کہا ہے کہ شام میں جنگجوؤں کے خلاف اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کیے بغیر کسی قسم کی 

کلِکامریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی اور کھلی جارحیت ہو گی۔حالیہ مہینوں میں دولتِ اسلامیہ نے شام کے مشرقی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے جبکہ عراق میں مزید قصبات، فوجی اڈوں اور ہتھیاروں پر قبضہ کیا ہے۔
امریکہ عراق میں پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے خلاف 150 سے زیادہ فضائی حملے کر چکا ہے اور اس نے عراقی حکومت اور کرد فورسز کی مدد کے لیے سینکڑوں عسکری مشیر بھی بھیجے ہیں تاہم وہ اس کارروائی میں اپنی زمینی فوج نہیں بھیجنا چاہتا۔
دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور گروپ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو خلیفہ مقرر کیا گیا تھا۔

Related

world news 6089892937995186265

Post a Comment

emo-but-icon

LiverPool Vs Real Madrid Fc 22-10-14

LiverPool Vs Real Madrid Fc 22-10-14
Liver Pool Vs Real Madrid Fc

Follow Us

Hot in week

Recent

Comments

Text Widget

Connect Us

item