ملتان میں سیلاب کا زور برقرار، مزید 126 دیہات زیرِ آب
https://newschennal.blogspot.com/2014/09/126.html
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب میں آنے والے سیلاب سے ملتان شہر کو محفوظ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں اور حکام نے شہر کو بچانے کے لیے متعدد مقامات پر شگاف ڈالے ہیں جس سے مزید 126 دیہات زیرِ آب گئے ہیں۔
ادھر دریائے سندھ میں سیلاب کی ممکنہ صورتحال کے تناظر میں حکومت سندھ نے آٹھ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔ملتان سے مقامی صحافی محمد ارتضیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ محکمۂ آبپاشی کے حکام کے مطابق بڑا سیلابی ریلا سنیچر کو بھی ملتان ڈویژن کی حدود سے گزر رہا ہے اور اس وقت پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے۔
حکام کے مطابق سیلابی پانی اس وقت ملتان، مظفرگڑھ، شجاع آباد، علی پور اور جلال پور میں موجود ہے جبکہ ہیڈ پنجند میں بھی پانی کی مقدار میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے اور وہاں بڑا ریلا 24 سے 48 گھنٹے میں پہنچے گا۔ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے پانی کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے جمعے کی دوپہر ہیڈ محمد والا پل کے ساتھ موجود پشتے میں دو بڑے شگاف ڈالے اور صورتحال میں بہتری نہ آنے پر ملتان شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے دوسرے پشتے میں شیر شاہ پل کے قریب تین شگاف ڈالے گئے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈی سی او ملتان زاہد سلیم گوندل نے بتایا کہ گذشتہ دو دن میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہوئی جس کی وجہ سے حکام نے اندازہ لگایا کہ علاقے میں موجود سیلابی بند ٹوٹ سکتا ہے جس سے سے شہر کی 20 سے 30 لاکھ آبادی متاثر ہو گی۔ ان کے مطابق اس کے بعد ہی حکام نے فیصلہ کیا کہ حفاظتی بندوں میں شگاف ڈالے جائیں۔
ڈی سی او ملتان زاہد سلیم گوندل کے مطابق ’ہیڈ محمد والا بند پہ شگاف ڈالا جائے تو شیر شاہ بند ہر صورت شگاف ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اسے کھولیں گے نہیں تو اس کا پانی شہر میں آنے کا خطرہ تھا۔ ‘ان کے بقول ’یہ بند چونکہ شہر کی حدود کے اندر ہیں لہذا 126 دیہات کے پونے تین لاکھ لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔‘
زاہد سلیم گوندل کا کہنا ہے شگاف ڈالے جانے سے شہر میں سیلابی پانی آنے کا خطرہ 95 فیصد تک ٹل گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساڑھے سات لاکھ کیوسک کا ریلا ابھی آنا ہے تاہم اس سے بھی خطرہ بہت زیادہ نہیں ہےشگاف ڈالنے سے ملتان کا مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ضلعی حکام کے مطابق سیلاب سے اب تک ملتان ڈویژن میں ملتان، مظفر گڑھ اور خانیوال کے 300 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں جبکہ چار لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔
سیلابی ریلا اب ملتان سے مظفر گڑھ کی جانب بڑھ رہا ہے اور ڈی سی او زاہد سلیم گوندل کے مطابق مقامی حکام الرٹ اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔اس سے قبل جمعے کو ہی قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا تھا کہ ملک میں بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے
کلِکسیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 274 تک پہنچ گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے سربراہ نے جمعے کو وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا سیلاب سے اب تک پنجاب کے دس اضلاع متاثر ہوئے جن میں سے جھنگ، چنیوٹ اور حافظ آباد میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔بریفنگ میں کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ بارش اور سیلاب سے تین ہزار دیہات متاثر ہوئے اور 43 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
صوبہ پنجاب کے آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق پنجاب میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 194 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ بارشوں سے 66 افراد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور 14 گلگت بلتستان میں مارے گئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے سیلاب زدگان کے لیے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق جھنگ، ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
بیان کے مطابق اب تک 29 ہزار سے زیادہ افراد کو ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور جمعے کو ہی فوجیوں نے مظفرگڑھ، احمد پور شرقیہ، پنجند اور ملتان میں سیلاب میں پھنسے ساڑھے پانچ سو افراد کو نکالا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس کے علاوہ فوج کے طبی کیمپ چنیوٹ، جھنگ اور تریموں میں کام کر رہے ہیں جبکہ ملتان اور بہاولپور میں موبائل طبی ٹیمیں متاثرین کے علاج میں مصروف ہیں۔
سندھ میں ہنگامی حالت کا اعلان
دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے دریائے سندھ میں سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے اور حکومت سندھ نے آٹھ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔ریڈیو پاکستان کے مطابق ان اضلاع میں کشمور، جیکب آباد، گھوٹکی، لاڑکانہ، سکھر، میرپور، نواب شاہ اور دادو شامل ہیں
اس کے علاوہ دریائے سندھ کے کنارے کچے کے علاقے سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل بھی جاری ہے اور حکومت نے لاڑکانہ میں اس مقصد کے لیے پانچ طبی کیمپوں سمیت 22 کیمپ قائم کیے ہیں۔محکمۂ موسمیات کے مطابق 15 سے 16 ستمبر کے درمیان گڈو بیراج جبکہ 16 سے 17 ستمبر کے درمیان سکھر بیراج سے چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی گزرے گا۔

